• صارفین کی تعداد :
  • 4265
  • 10/8/2012
  • تاريخ :

زمين کي  گہرائي ميں سفر

حضرت باقرالعلوم علیه السلام

جابر بن يزيد جعفر سے حکايت ہے کہ ايک دن ميں حضرت امام باقر العلوم کے محضر شريف ميں گيا  اور قرآن کي اس آيت کے تناظر ميں :

« وَ كَذلِكَ نُرى إبراهيمَ مَلَكُوتَ السَّمواتِ وَالاْ رْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنينَ » (انعام/75)

حضرت امام باقر سے سوال کيا کہ کيسے خدا نے آسمانوں کي حکومت کو حضرت ابراھيم کو دکھايا ؟

حضرت باقرالعلوم عليه السلام  نے کچھ دير خاموشي اختيار کي اور پھر اپنے ہاتھ کو بلند کيا اور فرمايا : اے جابر ! اوپر ديکھو ، ميں نے جيسے ہي اوپر ديکھا تو مجھے احساس ہوا کہ جيسے کمرے کي چھت ميں دراڑ  پڑ گئي ہو اور ايک حيرت انگيز نور نے ميري آنکھوں کو خيرہ کر ديا -

اس کے بعد امام علي عليہ السلام نے فرمايا :  حضرت ابراھيم عليہ السلام نے آسمانوں اور زمين کي حکومت کو اس طرح سے مشاہدہ کيا -   اور اس کے بعد حکم ديا : اپنے سر کو نيچا کر لو اور  ايک لحظہ کے بعد  دوبارہ فرمايا : اپنے سر کو بلند کرو -  اور جيسے ہي ميں نے اپنے سر کو بلند کيا تو ميں نے ديکھا کہ چھت اپني پہلے والي حالت ميں واپس آ گئي ہے اور دراڑ کا کوئي نشان باقي نہ تھا -

اس کے بعد آنحضرت عليہ السلام نے ميرا ہاتھ تھاما اور اس کمرے سے ايک دوسرے ميں مجھے لے گۓ اور وہ لباس جو انہوں نے پہن رکھا تھا اسے تبديل کيا اور فرمايا اپني آنکھوں کو بند کر لو -

جب ميں نے اپني آنکھوں کو بند کيا ، کچھ وقت کے بعد انہوں نے فرمايا : کيا تم جانتے ہو اب تم کہاں ہو ؟

ميں نے عرض کي : نہيں -

اے جابر ! يہ زمين کي حکومت تھي  جسے تم نے ديکھا ، اور  حضرت ابراھيم عليہ السلام  نے اسے نہيں ديکھا تھا  بلکہ انہوں نے صرف آسمانوں کي حکومت کو ديکھا تھا جس کي بارہ منزليں ہيں -

ترجمہ: سید اسد الله ارسلان

شعبہ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

امام محمد باقر (ع) کے  علمي فيوض